You are lovednot because you are visible,but because you are alive.تمہیں اس لیے محبت ملیکہ تم نمایاں ہو،نہیں—بلکہ اس لیے کہ تم زندہ ہو۔And life itselfdoes not require decoration.اور زندگی خودکسی سجاوٹ کی محتاج نہیں۔
Why do you love me so,
when I have learned to live without being chosen?
تم مجھے اتنا پیار کیوں کرتے ہو
جب میں نے بغیر چُنے جانے کے جینا سیکھ لیا ہے؟
I stopped expecting doors to open.
I stopped waiting for my name to be called.
I learned how to stand quietly in the corner of life.
میں نے دروازوں کے کھلنے کی امید چھوڑ دی،
میں نے اپنے نام کی پکار کا انتظار چھوڑ دیا،
میں نے زندگی کے کونے میں خاموش کھڑا رہنا سیکھ لیا۔
Not because I wanted to disappear,
but because disappearing felt easier than explaining myself.
اس لیے نہیں کہ میں غائب ہونا چاہتا تھا،
بلکہ اس لیے کہ خود کو سمجھانا
غائب ہو جانے سے زیادہ تھکا دینے والا تھا۔
The world rewards movement, noise, ambition.
Stillness makes people uncomfortable.
دنیا حرکت، شور اور خواہش کو انعام دیتی ہے،
ٹھہراؤ لوگوں کو بے چین کر دیتا ہے۔
When you are still,
people assume you are empty.
جب تم خاموش ہو،
لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ تم خالی ہو۔
But stillness is not emptiness.
It is containment.
لیکن خاموشی خلا نہیں ہوتی،
وہ خود کو سنبھالنا ہوتی ہے۔
The unseen bird did not stop dreaming.
It stopped announcing its dreams.
ان دیکھا پرندہ خواب دیکھنا نہیں چھوڑتا،
وہ خوابوں کا اعلان کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
Because every announcement invited judgment,
comparison, advice, dismissal.
کیونکہ ہر اعلان کے ساتھ
فیصلے آتے تھے،
موازنہ آتا تھا،
غیر مانگی ہوئی نصیحت آتی تھی۔
So the bird kept its dreams folded,
like wings resting after a long flight.
تو پرندے نے اپنے خواب
پروں کی طرح سمیٹ کر رکھ لیے،
جیسے لمبی اُڑان کے بعد آرام کرتے ہوں۔
And then love arrived—
not asking what it was hiding.
اور پھر محبت آئی—
یہ پوچھے بغیر کہ وہ کیا چھپا رہا ہے۔
That was new.
یہ نیا تھا۔
Love did not demand a story.
It did not ask for trauma, struggle, or explanation.
محبت نے کوئی کہانی نہیں مانگی،
اس نے درد، جدوجہد یا وضاحت نہیں پوچھی۔
It did not say,
“Tell me why you are the way you are.”
اس نے یہ نہیں کہا،
“مجھے بتاؤ تم ایسے کیوں ہو۔”
It said nothing.
And stayed.
وہ خاموش رہی،
اور ٹھہری رہی۔
For someone used to being questioned,
this silence felt louder than interrogation.
جو شخص سوالوں کا عادی ہو،
اس کے لیے یہ خاموشی
ہر تفتیش سے زیادہ بلند ہوتی ہے۔
The unseen bird began to notice something strange.
ان دیکھا پرندہ ایک عجیب بات محسوس کرنے لگا۔
It was no longer shrinking.
No longer preparing itself for rejection.
وہ اب خود کو سمیٹ نہیں رہا تھا،
وہ رد کیے جانے کی تیاری نہیں کر رہا تھا۔
It was breathing fully.
وہ پوری سانس لے رہا تھا۔
This was unfamiliar.
یہ اجنبی تھا۔
Because survival teaches shallow breathing.
Safety teaches depth.
کیونکہ بقا
ہلکی سانس لینا سکھاتی ہے،
اور تحفظ
گہرائی سکھاتا ہے۔
Why does love feel heavier than loneliness sometimes?
محبت کبھی کبھی تنہائی سے زیادہ بھاری کیوں لگتی ہے؟
Because loneliness hurts openly,
but love exposes quietly.
کیونکہ تنہائی کھلے عام دکھ دیتی ہے،
اور محبت خاموشی سے نقاب ہٹا دیتی ہے۔
It reveals how long you believed
you were unworthy.
وہ دکھا دیتی ہے
کہ تم نے کتنی دیر تک
خود کو نااہل سمجھا۔
And that realization aches.
اور یہ احساس
دردناک ہوتا ہے۔
The unseen bird realizes
it spent years apologizing for taking space.
ان دیکھا پرندہ سمجھتا ہے
کہ اس نے برسوں
جگہ لینے پر معافی مانگی ہے۔
For existing too softly.
For needing too little.
For not wanting more.
بہت نرمی سے جینے پر،
کم چاہنے پر،
زیادہ نہ مانگنے پر۔
But love does not ask it to expand.
It asks it to remain.
لیکن محبت اسے پھیلنے کو نہیں کہتی،
وہ اسے ٹھہرنے کو کہتی ہے۔
And remaining—
without guilt—
is revolutionary.
اور بغیر شرمندگی کے ٹھہرنا
انقلابی ہے۔
The forest is still thick.
The world is still loud.
جنگل اب بھی گھنا ہے،
دنیا اب بھی شور مچاتی ہے۔
Nothing outside has changed.
باہر کچھ نہیں بدلا۔
But inside, something has softened.
لیکن اندر
کچھ نرم ہو گیا ہے۔
The constant self-surveillance ends.
خود پر مسلسل نگرانی ختم ہو جاتی ہے۔
The inner voice stops demanding justification.
اندر کی آواز
ثبوت مانگنا چھوڑ دیتی ہے۔
So when the question returns—
Why do you love me so?
تو جب سوال دوبارہ آتا ہے—
تم مجھے اتنا پیار کیوں کرتے ہو؟
It no longer trembles.
وہ اب کانپتا نہیں۔
Because the answer is no longer outside.
کیونکہ جواب اب باہر نہیں۔
It lives quietly within:
وہ خاموشی سے اندر رہتا ہے:
You are loved
not because you are visible,
but because you are alive.
تمہیں اس لیے محبت ملی
کہ تم نمایاں ہو،
نہیں—
بلکہ اس لیے کہ تم زندہ ہو۔
And life itself
does not require decoration.
اور زندگی خود
کسی سجاوٹ کی محتاج نہیں۔
Written with AI
Comments
Post a Comment