Disclaimerڈسکلیمر**This article is for emotional and philosophical reflection only. It is not a substitute for professional mental health care.یہ تحریر جذباتی اور فلسفیانہ غوروفکر کے لیے ہے، کسی طبی یا ذہنی علاج کا متبادل نہیں۔**Closing Reflectionاختتامی سوچ**Sometimes,the only voice that remainsis your own.کبھی کبھیجو واحد آواز ساتھ دیتی ہےوہ آپ کی اپنی ہوتی ہے۔And sometimes,that voice is enoughto keep you alive.اور کبھی کبھیوہی آوازجینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
**Conversations With the Self خود سے باتیں — جب تنہائی آواز بن جائے** Poem / نظم **Why I Talk to Myself میں خود سے کیوں باتیں کرتا ہوں** I talk to myself, brother, not because madness calls me, but because my words have nowhere else to rest. میں خود سے باتیں کرتا ہوں بھائی، اس لیے نہیں کہ میں پاگل ہوں، بلکہ اس لیے کہ میرے لفظوں کے لیے کوئی اور ٹھکانہ نہیں۔ There is no one waiting at the end of my sentences, no voice that says, “I hear you.” میرے جملوں کے آخر میں کوئی کھڑا نہیں ہوتا، کوئی یہ نہیں کہتا، “میں سن رہا ہوں۔” So I speak to the air, and the air listens. I answer myself, because silence never does. اس لیے میں ہوا سے بات کرتا ہوں، اور ہوا خاموشی سے سن لیتی ہے۔ میں خود ہی جواب بن جاتا ہوں، کیونکہ خاموشی کبھی جواب نہیں دیتی۔ If you see me talking alone, do not call me broken. Call me human, trying to survive. اگر تم مجھے اکیلا بولتے دیکھو، تو مجھے ٹوٹا ہوا مت کہنا۔ مجھے انسان کہنا، جو بس جینے کی کوشش کر رہا ہے۔ **Analysis & Philosophy تجزیہ اور فلسفہ** This poem is...