The Door That Pulled Me In, and the Happiness I Left for You🌿 وہ دروازہ جو مجھے اندر کھینچ لایا، اور وہ خوشیاں جو میں نے تمہیں سونپ دیں(English + Urdu – Part 3)📖 Real-Life Stories Behind Hospital Doors📖 ہسپتال کے دروازوں کے پیچھے کی حقیقی کہانیاںEvery hospital corridor carries stories that never reach the news.ہر ہسپتال کے راہداریوں میںایسی کہانیاں ہوتی ہیں جو کبھی خبروں تک نہیں پہنچتیں۔
🌿 The Door That Pulled Me In, and the Happiness I Left for You
🌿 وہ دروازہ جو مجھے اندر کھینچ لایا، اور وہ خوشیاں جو میں نے تمہیں سونپ دیں
(English + Urdu – Part 3)
📖 Real-Life Stories Behind Hospital Doors
📖 ہسپتال کے دروازوں کے پیچھے کی حقیقی کہانیاں
Every hospital corridor carries stories that never reach the news.
ہر ہسپتال کے راہداریوں میں
ایسی کہانیاں ہوتی ہیں جو کبھی خبروں تک نہیں پہنچتیں۔
A father sits outside an operation theatre,
phone in his hand, untouched.
If he calls someone, his voice might break.
ایک باپ آپریشن تھیٹر کے باہر بیٹھا ہے،
موبائل ہاتھ میں ہے مگر فون نہیں کرتا۔
اگر بول پڑا تو آواز ٹوٹ جائے گی۔
A husband waits outside the ICU for days.
When someone asks how he is, he replies softly,
“She just needs to survive.”
ایک شوہر کئی دنوں سے ICU کے باہر انتظار میں ہے۔
کوئی پوچھے تو آہستہ کہتا ہے،
“بس وہ زندہ رہ جائے۔”
A mother ignores her own medical reports
to stand in line for her child’s treatment.
ایک ماں اپنی رپورٹیں نظرانداز کر کے
بچے کے علاج کی قطار میں کھڑی رہتی ہے۔
These people do not write poetry.
They live it.
یہ لوگ شاعری نہیں لکھتے،
یہ شاعری جیتے ہیں۔
🌍 Social Reality: The Unseen Bearers of Pain
🌍 سماجی حقیقت: نظر نہ آنے والے درد اٹھانے والے
Society celebrates success, recovery, and smiling faces.
It rarely notices those who suffer quietly behind them.
سماج کامیابی اور مسکراہٹوں کا جشن مناتا ہے،
مگر ان لوگوں کو کم ہی دیکھتا ہے
جو ان مسکراہٹوں کے پیچھے خاموشی سے درد سہتے ہیں۔
Hospitals reveal a harsh truth:
some heal,
some wait,
and some sacrifice without witnesses.
ہسپتال ایک سخت سچ دکھاتا ہے:
کوئی ٹھیک ہوتا ہے،
کوئی انتظار کرتا ہے،
اور کوئی بغیر گواہوں کے قربانی دیتا ہے۔
The speaker of this poem represents those unseen people
who choose responsibility over recognition.
اس نظم کا بولنے والا
انہی ان دیکھے لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے
جو پہچان نہیں، ذمہ داری کو چنتے ہیں۔
🤍 The Highest Form of Love
🤍 محبت کی بلند ترین شکل
The line
“May your happiness belong to your destiny”
is not surrender—it is generosity.
یہ جملہ
“تمہاری خوشیاں تمہاری قسمت میں ہوں”
ہار نہیں، سخاوت ہے۔
It is love that does not demand closeness,
does not fear distance,
and still offers blessing from pain.
یہ وہ محبت ہے
جو قربت کا مطالبہ نہیں کرتی،
دوری سے نہیں ڈرتی،
اور درد میں بھی دعا دیتی ہے۔
This kind of love is rare
because it requires letting go of ego.
ایسی محبت نایاب ہے
کیونکہ اس میں انا کو چھوڑنا پڑتا ہے۔
🌱 What This Poem Asks of Us
🌱 یہ نظم ہم سے کیا چاہتی ہے
This poem does not ask us to glorify pain.
It asks us to notice it.
یہ نظم ہم سے درد کی عظمت بیان کرنے کو نہیں کہتی،
یہ ہمیں درد کو دیکھنے کو کہتی ہے۔
It asks us to respect silence,
to honor waiting,
and to recognize invisible strength.
یہ خاموشی کا احترام،
انتظار کی قدر،
اور نظر نہ آنے والی طاقت کو پہچاننے کا کہتی ہے۔
Most of all, it asks us to be human.
سب سے بڑھ کر،
یہ ہمیں انسان بننے کو کہتی ہے۔
🌿 Closing Thought for Part 3
🌿 حصہ سوم کا اختتامی خیال
This poem leaves us with a quiet truth:
یہ نظم ہمیں ایک خاموش سچ دے جاتی ہے:
Someone’s happiness often rests
on someone else’s silence.
کسی کی خوشی اکثر
کسی اور کی خاموشی پر ٹکی ہوتی ہے۔
And that silence is not weakness—
it is love.
اور وہ خاموشی کمزوری نہیں،
محبت ہوتی ہے۔
👉 written with AI
Comments
Post a Comment